تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » عدالتی آئینی ترامیم میں بنیادی حقوق محدود اور فوج کے کردار میں اضافہ کیا گیا، مولانا فضل الرحمان
    سیاست

    عدالتی آئینی ترامیم میں بنیادی حقوق محدود اور فوج کے کردار میں اضافہ کیا گیا، مولانا فضل الرحمان

    adminadminستمبر 20, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملتان: جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ عدلیہ میں آئینی ترامیم کا حکومتی مسودہ مل گیا مسودے میں بنیادی حقوق کا دائرہ کار محدود کرکے ملٹری کے کردار میں اضافہ کردیا گیا ہے اسی لیے حمایت سے انکار کیا۔اداروں کے درمیان اگر طاقت کا توازن برقرار نہ رہے تو وہ بھی ملک کو تہس نہس کرسکتا ہے۔

    ملتان میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے کہا کہ وہ ججوں کی مدت ملازمت میں توسیع اور ججز کی تعداد میں اضافے کی تجاویز واپس لے رہی ہے مگر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز موجود ہے جے یو آئی ہمارا ساتھ دے مگر ہم نے انہیں کہا ہے کہ یہ محض عنوان پہلے مسودے کا ڈرافٹ دکھایا جائے پھر بات ہوگی۔

    انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کے معاملے میں حکومت کسی قسم کا مسودہ دینے پر آمادہ نہیں ہورہی تھی ایک کاپی انہوں ںے پیپلز پارٹی کو دی بالآخر ایک کاپی ہمیں دی، یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ دونوں کاپیاں ایک جیسی ہیں یا نہیں؟ جو کاپی ہمیں دی گئی ہے نہیں معلوم کہ نئی کاپی میں کچھ اضافہ ہے یا کچھ شقوں کی کٹوتی کی گئی ہے، حکومت ایوان سے توقع کررہی تھی کہ بغیر تیاری کہ ایوان ان کا ساتھ دے۔

    انہوں نے کہا کہ مسودے کی کاپی کا ہمارے وکلا نے جائزہ لیا ہمیں مسودہ دیکھ کر افسوس ہوا، آئین ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے مگر اس آئینی ترامیم میں ملٹری کے حوالے سے ایک استثنیٰ دیا گیا ہے لیکن مسودے میں بنیادی حقوق کا دائرہ کار محدود کرکے ملٹری کے کردار میں اضافہ کردیا گیا ہے، استثنی شق کو توسیع دی گئی ہے اور آئین میں موجود انسانی حقوق کا چیپٹر محدود کیا گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ مسودے میں ججوں کی تقرری اور تبادلے کے حوالے سے شقیں شامل ہیں جو نظام کو انتہائی متاثر کریں گی حتیٰ کہ ہائی کورٹ کے ججز کے حوالے سے بھی موجود ہے کہ اگر میرے (حکومت) کے حق میں فیصلہ نہ آئے تو اس کا تبادلہ کردیا جائے یا یہ کہ مقدمہ ایک جج سے لے کر دوسرے جج کے پاس منتقل کردیا جائے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مفادات کا لین دین ملک کی سیاست بن چکا ہے لیکن ہم نے اصولوں اور قوم کے لیے سیاست کی اور ایسی تمام تجاویز کو مسترد کردیا جو انسانی حقوق کے خلاف تھیں، عدل و انصاف مہیا کرنے میں صرف حکومت کو تحفظ دے رہی تھیں۔

    سربراہ جے یو آئی نے میثاق جمہوریت میں وفاقی آئینی عدالت کا تصور موجود ہے جو کہ صراحت کے ساتھ ہے، سپریم کورٹ میں اس وقت عام افراد کے ساٹھ ہزار التوا کا شکار ہیں، ملک بھر کی عدالتوں میں 24 لاکھ کیسز التوا میں پڑے ہیں، یہ ایک دلیل ہےکہ آئینی عدالت موجود جہاں آئینی مقدمات جائیں، مسودہ جس وقت ہمیں دیا گیا اس وقت حکومت کے پاس اسے منظور کرانے کے لیے اکثریت نہیں تھی اور منظوری کا دارو مدار جے یو آئی کی حمایت کرنے پر منحصر تھا مگر جے یو آئی نے واضح کہا ہے کہ ہم مطمئن نہیں اور اس مسودے کو منظور کرانے سے معذور ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ بلاول تشریف لائے اور ہم دونوں کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ ہم بھی ایک مسودہ بنائیں اور وہ بھی ایک مسودہ بنائیں جسے ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرکے اتفاق رائے کیا جائے کیوں کہ پارلیمنٹ کا کام ہی آئین سازی ہے یہ ہمارا ہی کام ہے اس پر ہم کوئی پابندی بھی برداشت نہیں کریں گے مگر اداروں کے درمیان اگر طاقت کا توازن برقرار نہ رہے تو وہ بھی ملک کو تہس نہس کرسکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہر ادارہ اپنے دائرہ کار میں رہے جسے آئین متعین کرتا ہے ادارہ اگر دائرہ کار میں رہے تو خوش اسلوبی سے کام ہو بصورت دیگر ملک کمزور ہوگا، آج نظر آرہا ہے کہ جب سے اسٹیبشلمنٹ نے طاقت ور بننے، انتخابات پر اثر انداز ہونے اور اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوشش کی تو نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک کمزور ہورہا ہے، میں نے وہ دن بھی دیکھے کہ جب فوج کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھا اور آج دیکھ رہا ہوں کہ فوج کے حق میں بات کرنے کو کوئی قبول نہیں کررہا، یہ ہمارے لیے بھی دکھ کی بات ہے ادارے حدود میں رہتے ہوئے اپنے ضمیر کے مطابق کام کریں تو ملک بھی طاقت ور ہوگا اور عوام بھی مطئمن ہوں گے۔

    ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری جانب سے مسودے کی تیاری پر کام شروع کردیا ہے جس میں ہفتہ دس دن لگ جائیں گے، ہمارا اتفاق آئینی عدالت کے قیام پر ہے لیکن یہاں بدنیتی نظر آئی اس لیے انکار کیا، ملٹری کے استثنیٰ میں توسیع دے کر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی اس لیے حمایت نہیں کی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleتحریک انصاف کو مینار پاکستان کے بجائے نئے مقام پر جلسے کی اجازت مل گئی
    Next Article تمام اصلاحات اور ترمیم عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں، عطا تارڑ
    admin
    • Website

    Related Posts

    حکومت قیام امن پر نہیں بلکہ سیاست کو فوکس کی ہوئی ہے جو غلط ہے،مولانا فضل الرحمان

    نومبر 17, 2024

    24 نومبر فیصلے کا دن، اس دن پتہ چل جائے گا کون پارٹی میں رہے گا اور کون نہیں، بانی تحریک انصاف

    نومبر 17, 2024

    عمران خان اور بشریٰ بی بی 24 نومبر کو اپنے بچوں کو بھی احتجاج میں لائیں، خواجہ آصف

    نومبر 17, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.