تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » تمام اصلاحات اور ترمیم عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں، عطا تارڑ
    پاکستان

    تمام اصلاحات اور ترمیم عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں، عطا تارڑ

    adminadminستمبر 20, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرز ایکٹ میں ترمیم مناسب سمجھی گئی، اب جو کیس پہلے آئے گا اس کی پہلے سماعت ہوگی۔ تمام اصلاحات اور ترمیم عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ صدر مملکت اس آرڈیننس پر دستخط کر چکے ہیں، جس میں 184(3) کے تحت آنے والے کیسز کا تحریری طور پر بتانا ہوگا کہ یہ عوامی اہمیت کا معاملہ کیوں ہے۔ ایک باقاعدہ آرڈر جاری کیا جائے گا کہ 184(3) کے تحت کوئی کیس لیا گیا ہے تو اس میں کیا ایسی بات ہے کہ یہ عوامی اہمیت کا کیس ہے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ آرڈیننس کے تحت 184(3) کا جو بھی آرڈر سپریم کورٹ پاس کرے گی، اس کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا ہے، اس آرڈیننس کے تحت جج صاحبان کیس کے دوران جو بھی بات کریں گے اس کا ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے گا اور یہ تحریر عوام کے لیے بھی دستیاب ہوگی۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ عدالتی عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے یہ ضروری ہے، آئینی پیکیج میں بھی عوام کو سہولت دینے کی بات کی گئی تھی، اب جو کیس پہلے آئے گا اس کی سماعت پہلے ہوگی، بعد میں آنے والا کیس بعد میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا۔

    عطاء تارڑ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں طے کیا گیا تھا کہ چیف جسٹس اس کی قیادت کریں گے اور سینئرجج اور تھرڈ سینئرجج اس میں موجود ہوں گے، اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔ چیف جسٹس اس کی سربراہی کریں گے،سینئر جج اس کمیٹی کے رکن ہوں گے اور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے جج صاحبان میں سے کسی ایک جج کو وقتاً فوقتاً اس کمیٹی کا رکن نامزد کر سکیں گے۔

    وزیر اطلاعات نے کہا کہ تیسرے ممبر کی عدم دستیابی کی وجہ سے کیسز تاخیر کا شکار ہوتے تھے، 63 اے کا نظرثانی کیس آج تک التواء کا شکار ہے، 63 اے کی نظرثانی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی فیصلہ آ جانا چاہیے تھا، یہ تمام اصلاحات اور ترمیم عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعدالتی آئینی ترامیم میں بنیادی حقوق محدود اور فوج کے کردار میں اضافہ کیا گیا، مولانا فضل الرحمان
    Next Article سپریم کورٹ، جمہوریت اور آزادی کو بچانے کے لیے مینار پاکستان پر جلسہ ہوگا،بانی پی ٹی آئی
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.