تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » آسٹریلیا زہریلے جانوروں کی آماجگاہ بن گیا
    بین الاقوامی

    آسٹریلیا زہریلے جانوروں کی آماجگاہ بن گیا

    adminadminدسمبر 6, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لندن: آسٹریلیا کئی زہریلے جانداروں کی ایک چکرا دینے والی آماجگاہ ہے جن میں مکڑی، سانپ، جیلی فش، آکٹوپس، چیونٹیوں، شہد کی مکھیوں اور یہاں تک کہ پلیٹیپس بھی شامل ہیں۔ لیکن اتنے سارے آسٹریلوی جانور زہریلے کیوں ہیں؟

    اگرچہ ان میں سے بہت سے زہریلے جانور آسٹریلیا کے ایک براعظم کے طور پر وجود میں آنے سے پہلے کے ہیں۔ لیکن ان زہریلے سانپوں کے بارے میں سوال اٹھتا ہے جو آسٹریلیا کے براعظم بننے کے بعد وہاں آئے۔

    برطانیہ کی سوانسی یونیورسٹی میں ارتقائی حیاتیات کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، کیون آربکل نے کہا کہ آسٹریلیا تقریباً 100 ملین سال قبل ایک الگ زمینی علاقہ بنا۔ اس سے پہلے یہ سُپر براعظم گونڈوانا سے الگ ہوا۔

    کچھ زہریلی انواع آسٹریلیا پر اسی وقت سے پھنس گئیں جب یہ ایک الگ تھلگ زمین بنا جس میں آسٹریلیائی بلڈوگ چیونٹیاں بھی شامل ہیں جو بیک وقت ڈنک مار سکتی ہیں اور کاٹ بھی سکتی ہیں۔

    یہ دنیا کی مہلک ترین چیونٹیوں میں شمار ہوتی ہیں اور مبینہ طور پر 1936 سے اب تک تین افراد کو ہلاک کر چکی ہیں۔ یہ زہریلی چیونٹیاں آسٹریلیا کے بطور علیحدہ خطے کے وجود میں آنے سے پہلے گونڈوانا میں موجود تھیں اور آسٹریلیا کے الگ براعظم بننے کے بعد آسٹریلیا میں رہیں۔

    جہاں تک مکڑیوں کا تعلق ہے، فنل ویب مکڑیاں وہ واحد مکڑیا ہیں جو آسٹریلیا میں ہی پائی جاتی ہیں اور زہریلے کاٹنے سے انسانوں کو مار سکتی ہیں۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ نر فنل ویب مکڑیاں 13 افراد کو ہلاک کرچکی ہیں تاہم 1981 میں اینٹی وینم متعارف کرائے جانے کے بعد سے کوئی انسانی موت ریکارڈ نہیں ہوئی ہے۔ ان مکڑیوں کے آباؤ اجداد بھی آسٹریلیا کے الگ براعظم بننے سے پہلے ہی خطے میں موجود تھے۔

    اسی طرح زہریلے اسکوئیڈز، آکٹوپس اور کٹل فش 300 ملین سال تک موجود ہیں۔ وہ آسٹریلیا کے آس پاس کے پانیوں میں رہتے آئے ہیں اور آسٹریلیا کے الگ خطے کے طور پر وجود میں آنے کے بعد یہ آسٹریلیا کا ہی حصہ بن گئے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانجلینا جولی ہالی ووڈ سے اکتاہٹ کا شکار ہو گئیں
    Next Article العزیزیہ ریفرنس، نواز شریف کی اپیل پر کل اہم سماعت ہوگی
    admin
    • Website

    Related Posts

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024

    عالمی خلائی اسٹیشن پر ہوا کی لیکیج، امریکی، روسی حکام کے درمیان تضادات سامنے آنے لگے

    نومبر 17, 2024

    دماغ کیسے یادداشت کو اپ ڈیٹ اور تازہ دم کرتا ہے؟

    نومبر 17, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.