تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا ؟ چیف جسٹس نےفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی غیر قانونی قرار دیدی
    پاکستان

    فیض آباد دھرنے کا ماسٹر مائنڈ کون تھا ؟ چیف جسٹس نےفیکٹ فائنڈنگ کمیٹی غیر قانونی قرار دیدی

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ابصار عالم نے اپنے بیان میں وزارت دفاع کے ملازم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ ان الزامات کے بعد بھی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں؟ اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا ابصار عالم کے لگائے الزامات دیکھے ہیں، ہم نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا ابصارعالم فیض آباد دھرنے کے وقت کیا تھے؟ اٹارجی جنرل نے جواب دیا فیض آباد دھرنے کے وقت ابصارعالم چیئرمین پیمرا تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا وفاقی حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب بنائی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 19 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر رپورٹ دے گی۔ چیف جسٹس نے پوچھا ابھی تک کمیٹی نے کوئی کام نہیں کیا؟ جس پر منصور عثمان نے بتایا کہ 26 اکتوبر کو کمیٹی اجلاس ہو چکا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عملدرآمد کیلئے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر سوالات اٹھا دیے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کس قانون کے تحت بنی؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ چیف جسٹس نے کہا کمیٹی بناکر صرف رپورٹس آتی رہیں گی، ہونا کچھ نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ فیض آباد دھرنا فیصلہ ٹھیک ہے، حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کیا کمیٹی نے جوٹی او آر بنائے ہیں ان میں سب ذمہ داران سے حساب لیا جائے گا، پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، بیرون ملک سے ایک شخص امپورٹ کرکے ملک کو یرغمال بنایا گیا اور وہ واپس لوٹ گیا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے، بچوں سے پوچھیں تو وہ بھی آپ سے بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ ہم کمیٹی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیں گے، عدالت آپ کا کام کیوں کرے؟ چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کیا اب ریاستی امور آئین کے مطابق چلائے جا رہے ہیں؟ جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کمیٹی کے ٹی او آرز سے تو لگتا ہے آپ نے سب کو بری کر دیا، دھرنا کیس میں عدالت نے پوری ہسٹری دے دی، ہم نے پوچھا تھا دھرنے کا ذمہ دار کون تھا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا حکومت نے کمیٹی کا ایک بھی ٹی او آر درست نہیں بنایا، حکومت چاہتی ہے سب کو ذمہ دار ٹھہرا کر کسی کیخلاف کاروائی نہ ہو، اربوں کا نقصان ہوا مگر حکومت کو پرواہ ہی نہیں، کمیٹی رپورٹ کا کیا ہوگا؟ کیا کمیٹی رپورٹ کابینہ میں پیش ہوگی؟ کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی تاکہ کارروائی ہوسکے؟ انہوں نے مزید کہا ہم کمیٹی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیں گے، عدالت آپ کا کام کیوں کرے؟ فیض آباد دھرنا فیصلے پرعملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کمیٹی کا حصہ ہیں، وہ کیا کام کریں گے؟ کتنے پل گرائے گئے؟کتنا نقصان ہوا؟ یہ سب کون دیکھے گا؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا حکومتی کمیٹی کے ٹی او آرسے تو سب بری ہو جائیں گے، معذرت کے ساتھ لیکن یہ کمیٹی قابل قبول نہیں ہے، عدالت اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے خوش نہیں ہے، حکومت کی بنائی گئی کمیٹی غیرقانونی ہے۔ عدالت یہ قراردے گی کہ حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں کچھ نہیں کیا: جسٹس فائز عیسیٰ اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا حکومت نے کمیٹی صرف تحقیقات کیلئے بنائی ہے، کمیٹی اپنی رپورٹ کیساتھ سفارشات دے گی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ملک نہیں چلایا جاسکتا، ہمیں بتائیں کون سے رولزآف بزنس اورکس قانون کے تحت کمیٹی بنائی گئی، جس طرح حکومت معاملات چلانا چاہ رہی ہےایسے نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا عدالت یہ قراردے گی کہ حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں کچھ نہیں کیا، ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹرمائنڈ کون تھا؟ 6 فروری 2019 سے آج تک فیصلے پرعملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا میں جو بھی کروں مجھےکوئی پوچھ نہیں سکتا، حکومت سیدھا سیدھا کہہ دے کہ ہم کام نہیں کریں گے۔ منصور عثمان نے کہا پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن بنائیں گے، جیسے عدالت حکم کرے گی اس پر عمل ہو گا، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا آئین پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومتی کمیشن کی تحقیقات شفاف ہونی چاہئیں۔ کیا لوگ کینیڈا سے یہاں آکر دھرنے دیں کوئی نہیں پوچھے گا؟ چیف جسٹس پاکستان چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ماضی سے سیکھ کر حکومت ایسا اقدام کرےکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تو لوگ سبق لیں گے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کیا حکومت واقعی فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کرنا چاہتی ہے؟ کون سا قانون کہتا ہے نظرثانی دائر ہو جائے تو فیصلے پر عمل نہیں ہو گا؟ کیا حکومت نے کینیڈین حکومت سے رابطہ کیا تھا؟ کیا لوگ کینیڈا سے یہاں آکر دھرنے دیں کوئی نہیں پوچھے گا؟ کیا پاکستانی کینیڈا جاکر اس طرح دھرنے دے سکتے ہیں؟ دوسرے ممالک تو اپنے ایک ایک شہری کی حفاظت کرتے ہیں، پاکستان میں کوئی نہیں پوچھتا، چاہے جو کرو، کبھی دبئی چلے جاؤ، کبھی دوسرے ملک، ہمارے لوگ ملک اور دین دونوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کسی کو اس ملک کی پرواہ نہیں ہے، یہ ملک صرف اشرافیہ کیلئے نہیں ہے، 70 سال سے ملک میں اشرافیہ کا قبضہ ہے، ایک شخص کو امپورٹ کرنےکا مقصدکیا اس وقت کی حکومت کوبرطرف کرنا تھا؟ کیا دوبارہ ایک شخص کو امپورٹ کرکے مستقبل میں بھی خدمات لی جائیں گی؟ کیا کینیڈا سے آئے اس شخص نے اپنے ٹکٹ کی ادائیگی خود کی تھی؟ ممکن ہے کمیٹی کی تحقیقات سے یہ بھی تعین ہو جائے کہ پیمرا، الیکشن کمیشن اس وقت آزاد نہیں تھے۔
    adminadminنومبر 1, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے ابصار عالم نے اپنے بیان میں وزارت دفاع کے ملازم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب کیا آپ ان الزامات کے بعد بھی نظرثانی درخواست واپس لینا چاہتے ہیں؟

    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا ابصار عالم کے لگائے الزامات دیکھے ہیں، ہم نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنائی ہے، جس پر چیف جسٹس نے پوچھا ابصارعالم فیض آباد دھرنے کے وقت کیا تھے؟ اٹارجی جنرل نے جواب دیا فیض آباد دھرنے کے وقت ابصارعالم چیئرمین پیمرا تھے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا وفاقی حکومت نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کب بنائی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 19 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے کمیٹی تشکیل دی، فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر رپورٹ دے گی۔

    چیف جسٹس نے پوچھا ابھی تک کمیٹی نے کوئی کام نہیں کیا؟ جس پر منصور عثمان نے بتایا کہ 26 اکتوبر کو کمیٹی اجلاس ہو چکا ہے۔

    سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا فیصلے پر عملدرآمد کیلئے قائم فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی پر سوالات اٹھا دیے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کس قانون کے تحت بنی؟ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ چیف جسٹس نے کہا کمیٹی بناکر صرف رپورٹس آتی رہیں گی، ہونا کچھ نہیں ہے۔

    چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا آپ سمیت سب کہہ رہے ہیں کہ فیض آباد دھرنا فیصلہ ٹھیک ہے، حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، کیا کمیٹی نے جوٹی او آر بنائے ہیں ان میں سب ذمہ داران سے حساب لیا جائے گا، پورے ملک کو ایک جماعت نے یرغمال بنائے رکھا، بیرون ملک سے ایک شخص امپورٹ کرکے ملک کو یرغمال بنایا گیا اور وہ واپس لوٹ گیا، حکومت میں تحقیقات کرنے کی قابلیت ہی نہیں ہے، بچوں سے پوچھیں تو وہ بھی آپ سے بہتر جواب دے سکتے ہیں۔

    ہم کمیٹی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیں گے، عدالت آپ کا کام کیوں کرے؟ چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ
    جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کیا اب ریاستی امور آئین کے مطابق چلائے جا رہے ہیں؟ جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کمیٹی کے ٹی او آرز سے تو لگتا ہے آپ نے سب کو بری کر دیا، دھرنا کیس میں عدالت نے پوری ہسٹری دے دی، ہم نے پوچھا تھا دھرنے کا ذمہ دار کون تھا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا حکومت نے کمیٹی کا ایک بھی ٹی او آر درست نہیں بنایا، حکومت چاہتی ہے سب کو ذمہ دار ٹھہرا کر کسی کیخلاف کاروائی نہ ہو، اربوں کا نقصان ہوا مگر حکومت کو پرواہ ہی نہیں، کمیٹی رپورٹ کا کیا ہوگا؟ کیا کمیٹی رپورٹ کابینہ میں پیش ہوگی؟ کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش ہوگی تاکہ کارروائی ہوسکے؟

    انہوں نے مزید کہا ہم کمیٹی رپورٹ کا جائزہ نہیں لیں گے، عدالت آپ کا کام کیوں کرے؟ فیض آباد دھرنا فیصلے پرعملدرآمد کرانا حکومت کا کام ہے، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کمیٹی کا حصہ ہیں، وہ کیا کام کریں گے؟ کتنے پل گرائے گئے؟کتنا نقصان ہوا؟ یہ سب کون دیکھے گا؟

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا حکومتی کمیٹی کے ٹی او آرسے تو سب بری ہو جائیں گے، معذرت کے ساتھ لیکن یہ کمیٹی قابل قبول نہیں ہے، عدالت اس فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی سے خوش نہیں ہے، حکومت کی بنائی گئی کمیٹی غیرقانونی ہے۔

    عدالت یہ قراردے گی کہ حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں کچھ نہیں کیا: جسٹس فائز عیسیٰ
    اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا حکومت نے کمیٹی صرف تحقیقات کیلئے بنائی ہے، کمیٹی اپنی رپورٹ کیساتھ سفارشات دے گی، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ملک نہیں چلایا جاسکتا، ہمیں بتائیں کون سے رولزآف بزنس اورکس قانون کے تحت کمیٹی بنائی گئی، جس طرح حکومت معاملات چلانا چاہ رہی ہےایسے نہیں ہوگا۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا عدالت یہ قراردے گی کہ حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس میں کچھ نہیں کیا، ہم جاننا چاہتے ہیں فیض آباد دھرنے کا ماسٹرمائنڈ کون تھا؟ 6 فروری 2019 سے آج تک فیصلے پرعملدرآمد نہیں ہوا، اس طرح تو یہاں ہر کوئی کہے گا میں جو بھی کروں مجھےکوئی پوچھ نہیں سکتا، حکومت سیدھا سیدھا کہہ دے کہ ہم کام نہیں کریں گے۔

    منصور عثمان نے کہا پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت کمیشن بنائیں گے، جیسے عدالت حکم کرے گی اس پر عمل ہو گا، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا آئین پر عملدرآمد کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومتی کمیشن کی تحقیقات شفاف ہونی چاہئیں۔

    کیا لوگ کینیڈا سے یہاں آکر دھرنے دیں کوئی نہیں پوچھے گا؟ چیف جسٹس پاکستان
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ماضی سے سیکھ کر حکومت ایسا اقدام کرےکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، جب قانون ہاتھ میں لینے والوں کو سزا ملے گی تو لوگ سبق لیں گے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پوچھا کیا حکومت واقعی فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کرنا چاہتی ہے؟ کون سا قانون کہتا ہے نظرثانی دائر ہو جائے تو فیصلے پر عمل نہیں ہو گا؟ کیا حکومت نے کینیڈین حکومت سے رابطہ کیا تھا؟ کیا لوگ کینیڈا سے یہاں آکر دھرنے دیں کوئی نہیں پوچھے گا؟ کیا پاکستانی کینیڈا جاکر اس طرح دھرنے دے سکتے ہیں؟ دوسرے ممالک تو اپنے ایک ایک شہری کی حفاظت کرتے ہیں، پاکستان میں کوئی نہیں پوچھتا، چاہے جو کرو، کبھی دبئی چلے جاؤ، کبھی دوسرے ملک، ہمارے لوگ ملک اور دین دونوں کو بدنام کر رہے ہیں۔

    چیف جسٹس پاکستان نے کہا کسی کو اس ملک کی پرواہ نہیں ہے، یہ ملک صرف اشرافیہ کیلئے نہیں ہے، 70 سال سے ملک میں اشرافیہ کا قبضہ ہے، ایک شخص کو امپورٹ کرنےکا مقصدکیا اس وقت کی حکومت کوبرطرف کرنا تھا؟ کیا دوبارہ ایک شخص کو امپورٹ کرکے مستقبل میں بھی خدمات لی جائیں گی؟ کیا کینیڈا سے آئے اس شخص نے اپنے ٹکٹ کی ادائیگی خود کی تھی؟ ممکن ہے کمیٹی کی تحقیقات سے یہ بھی تعین ہو جائے کہ پیمرا، الیکشن کمیشن اس وقت آزاد نہیں تھے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانتخابات کیس، الیکشن کمیشن نے وکالت نامہ جمع کروا دیا
    Next Article بلوچستان میں دہشت گردوں کا بڑا حملہ، 14 جوان وطن پر قربان
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    حکومت قیام امن پر نہیں بلکہ سیاست کو فوکس کی ہوئی ہے جو غلط ہے،مولانا فضل الرحمان

    نومبر 17, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.