تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » ایک سال میں آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگی کی گئی، ڈاکٹر گوہر اعجاز
    پاکستان

    ایک سال میں آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگی کی گئی، ڈاکٹر گوہر اعجاز

    adminadminجولائی 21, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد:سابق نگران وزیرتجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کو ادائیگیوں کا ڈیٹا ایکس پر شیئر کر دیا۔

    ڈاکٹر گوہر اعجاز نے بتایا کہ پچھلے پورے سال ہر آئی پی پی کو ادائیگیوں، ایندھن کی قیمت، کیپسٹی پے منٹس کا ڈیٹا پیش کر رہا ہوں، حکومت کی آئی پی پیز کو ادائیگیوں کی وجہ سے صنعتی، تجارتی اور گھریلو صارفین کو تکلیف پہنچ رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت پاور پلانٹ سے سب سے زیادہ مہنگی بجلی 750 روپے فی یونٹ کے حساب سے خرید رہی ہے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے، جبکہ ونڈ اور سولرپلانٹس سے 50 روپے فی یونٹ سے اوپرمیں بجلی خریدی جا رہی ہے۔

    ڈاکٹر گوہر اعجاز نے بتایا کہ صلاحیت کے 20 فیصد سے کم پیداوار پر آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگی کی گئی، حکومت ایک پلانٹ کو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر 140 ارب روپے ادا کرچکی ہے، دوسرے پاور پلانٹ کو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر 120 ارب روپے ادا کئے گئے، تیسرے پاور پلانٹ کو 22 فیصد لوڈ فیکٹر پر 100 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی، اس طرح صرف تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کر دیئے گئے۔

    انہوں نے کہا کہ کیپیسٹی پیمنٹ کے یہ معاہدے پاورپلانٹس کو بہت زیادہ انوائس کرنے کی اجازت دیتے ہیں، معاہدوں کے نتیجے میں بجلی پیدا کیے بغیر آئی پی پیز کو بڑی صلاحیت کی ادائیگی ہوتی ہے ، مسئلے کا حل “کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں” ہے۔

    ڈاکٹر گوہر اعجاز کا کہنا تھا کہ صرف سستی ترین بجلی فراہم کرنے والوں سے بجلی کی خریداری کے لیے معاہدے کیے جائیں، تمام آئی پی پیز کو کسی بھی دوسرے کاروبار کی طرح مرچنٹ پلانٹس کے طور پر سمجھا جانا چاہیے، پاور پلانٹس 52 فیصد حکومت کی ملکیت ہیں اور 28 فیصد پاکستان کے پرائیویٹ سیکٹر کی ملکیت ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کرپٹ ٹھیکوں، بدانتظامی اور نااہلی کی وجہ سے ہمیں بجلی 60 روپے فی یونٹ بیچی جا رہی ہے، اپنے ملک کو بچانے کے لیے 40 خاندانوں کے ساتھ کئے گئے ان معاہدوں کے خلاف سب کو اٹھنا چاہیے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبنوں امن مارچ واقعے میں تحریک انصاف ملوث ہے،عطا تارڑ
    Next Article صدر جوبائیڈن امریکی صدارتی انتخابات کی دوڑ سے دستبردار ہوگئے
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.