تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » سائفر کیس،انٹرنیٹ پرموجود لیکڈ آڈیوز کو درست نہیں مانتا، جسٹس گل حسن اورنگزیب
    پاکستان

    سائفر کیس،انٹرنیٹ پرموجود لیکڈ آڈیوز کو درست نہیں مانتا، جسٹس گل حسن اورنگزیب

    adminadminمئی 8, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف دائر درخواست پر پراسیکیوٹر کے دلائل پر کہا کہ انٹرنیٹ پر لیکڈ آڈیوز کو میں درست نہیں مانتا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی۔

    ایف آئی اے کے اسپیشل پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے الیکٹرونک شواہد سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت چار لوگوں کی لیکڈ آڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں، جس میں کہا گیا کہ سائفر سے کھیلتے ہیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال کیا کہ لیکڈ آڈیوز انٹرنیٹ پر کس نے پوسٹ کیں، کیا آپ انٹرنیٹ پر آنے والی ہر چیز کو درست مان لیتے ہیں، میں تو ایسا نہیں کرتا، انٹرنیٹ پر جھوٹ ہے جب تک کسی چیز کے درست ہونے کی تصدیق نہ کر لی جائے۔

    پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 28 ستمبر 2022 کو اظہر نامی شخص کے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے یہ آڈیوز اپلوڈ کی گئیں، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کیا اس اظہر کو بلا کر پوچھا گیا؟ اس اظہر سے پوچھیں تو سہی کہ اس نے وزیراعظم آفس کی آڈیو کیسے ریکارڈ کی؟ اگر بَگ کر لی تو کیا وہ اسے عدالت میں پیش کرنے کی جرات بھی کرے گا۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اظہر نے وزیراعظم کے گھر سے وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو بَگ کر کے انٹرنیٹ پر لگا دی اور آپ کہتے ہیں اظہر کو چھوڑ دیں لیکن جو اس نے کہا وہ بالکل درست ہے، ایف آئی اے کو اس معاملے کی جڑ تک پہنچنا چاہیے جو ایک وزیراعظم تک پہنچ گیا، سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے میں ہے کہ کسی کی آڈیو ریکارڈنگ نہیں کی جاسکتی۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے آج کل ایسی ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے میری اور آپ کی آواز بھی بنائی جاسکتی ہے، سابق چیف جسٹس کی آڈیو لیک ہوئی اور بعد میں تحقیق سے غلط نکلی۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے سوال اٹھایا کیا آپ انٹرنیٹ پر آنے والی ہر چیز کو درست مان لیتے ہیں؟آپ نے انٹرنیٹ پر آنے والی چیز پر دس،دس سال سزا دے دی۔

    پروسیکیوٹر نے کہا کہ یہ ہماری واحد شہادت نہیں ہے اس کے علاوہ اور بھی ہیں اور بتایا کہ پی ٹی وی کے کیمرہ مین نے بیان دیا کہ اس نے 27 مارچ کے جلسے میں بانی پی ٹی آئی کی تقریر ریکارڈ کی اور ایف آئی اے کو اس ریکارڈنگ کی سی ڈی فراہم کی، سی ڈی میں تقریر اور اس کا ٹرانسکرپٹ موجود ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کیمرہ مین نے بیان دیا کہ اس نے بانی پی ٹی آئی کو کاغذ لہراتے دیکھا، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے طنزیہ سوال کیا کہ یہ تو آپ کا اسٹار گواہ ہے۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کیمرہ مین یہ کیسے کہہ سکتا ہے وہ تو صرف یہ بتا سکتا ہے کہ ریکارڈنگ اس نے ہی کی تھی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے ایف آئی اے اب اعظم خان کے بجائے کیمرہ مین کے بیان پر انحصار کر رہی ہے، کیا پراسیکیوشن کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں کہ اعظم خان کا بیان تسلیم نہیں کیا جائے گا، اعظم خان کا بیان ضائع ہونے کا سوچ کر کیمرہ مین کے بیان پر انحصار کر رہے ہیں۔

    ایف آئی اے پروسیکیوٹر حامد علی شاہ نے کہا کہ دفتر خارجہ کی ترجمان کی سائفر سے متعلق بریفنگ کا ٹرانسکرپٹ بھی موجود ہے، ہماری اگلی گواہ دفتر خارجہ کی ڈائریکٹر اقرا اشرف ہیں۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا اقرا اشرف نے اپنے بیان میں لکھا کہ یہ میرا حتمی بیان نہیں، لڑکی نے ایمانداری دکھائی کہ ایف آئی اے نے مجھ سے جلدبازی میں بیان لیا ہے، کیا آپ اقرا اشرف کے غیرحتمی بیان پر انحصار کر سکتے ہیں، آپ نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے ایک نامکمل ڈاکومنٹ لے لیا۔

    پراسیکیوٹر نے جواب دیا غیرحتمی کا یہ مطلب نہیں کہ جلدی میں بیان دے دیا بلکہ یہ ہے کہ مزید کوئی چیز شامل کی جا سکتی ہے، جسٹس میاں گل حسن پھر بولے میں تو ایک غیرحتمی بیان پر انحصار نہیں کر سکتا، آپ کر سکتے ہیں۔

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا صرف اس شہادت پر انحصار نہیں مزید بھی شواہد موجود ہیں، آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی کوشش کروں گا جس کے بعد سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبانی پی ٹی آئی نے چئیرمین پی اے سی کے لیے وقاص اکرم کے نام کی منظوری دیدی
    Next Article امریکا نے اسرائیل کو بارودی مواد کی کھیپ کی ترسیل روک دی
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.