تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، بغیر قانون کسی کو کیسے محروم کیا جا سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    پاکستان

    الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، بغیر قانون کسی کو کیسے محروم کیا جا سکتا ہے،جسٹس منصور علی شاہ

    adminadminجنوری 26, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے، بغیر قانون کسی کو کیسے محروم کیا جا سکتا ہے۔۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ احتساب عوام نے کرنا ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوٴں کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے علیحدہ علیحدہ کیسز کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، جس میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔

    پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم کو سپریم کورٹ نے انتخابات لڑنے کی اجازت دے دی۔ عمر اسلم کے کاغذات نامزدگی 9 مئی کے مقدمات میں مفرور ہونے کی بنیاد پر مسترد کیے تھے تھے۔عدالت نے کہا کہ الیکشن لڑنا بنیادی حق ہے۔ مفرور شخص الیکشن نہیں لڑ سکتا بتا دیں کہاں لکھا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بغیر قانون کسی کو بنیادی حق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہمارے سامنے آنے والے درخواست گزار کی اہمیت نہیں، عوام کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ احتساب عوام نے کرنا ہے الیکشن کمیشن نے نہیں۔

    کیس کے مخالف فریق نے دلائل میں کہا کہ عمر اسلم اسکروٹنی کے وقت بھی موجود نہیں تھے جب کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ بیلٹ پیپرز کاکام مکمل ہو چکا ہے، جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے پر عمل کرنا الیکشن کمیشن کی ذمے داری ہے۔

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی رہنما عمر اسلم قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 87 خوشاب سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

    انتخابات لڑنے سے متعلق ایک دوسرے کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کے رہنما طاہر صادق کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی۔طاہر صادق نے قومی اسمبلی کے این اے 49 اٹک سے کاغذات نامزدگی جمع کرا رکھے ہیں اور انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

    لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے طاہر صادق کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے تھے۔

    سپریم کورٹ نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 19 سے پی ٹی آئی رہنما محمد عارف عباسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کا معاملہ میں الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے اپیل خارج کردی۔

    کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جس میں عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار نے 2 فوجداری مقدمات ہونے کے باجود ضمانت کے لیے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔

    درخواست گزار نے دونوں مقدمات کا کاغذات نامزدگی میں بھی ذکر نہیں کیا۔ ریٹرننگ آفیسر نے بیٹے کی لندن میں موجود جائدادوں کا پوچھا اس کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔

    درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں بتایا کہ ریٹرننگ آفیسر نے نامزدگی پر اعتراض اٹھا کر کاغذات مسترد کیے۔ درخواست گزار کے خلاف وارث خان تھانے میں 2 ایف آئی آرز درج تھیں۔

    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ دستاویزات تو پڑھ کر آئیں، کیس چلانا ہے تو فیکٹ بتائیں۔ جسٹس منصور علی مظہر نے کہا کہ جس شخص کیخلاف 2 فوجداری ایف آئی آرز ہوں، وہ پورے شہر بھر میں گھوم رہا ہے۔ ضمانت کے لیے ٹرائل کورٹ جانے میں آپ کو مسئلہ کیا تھا؟۔ آپ نے کاغذات نامزدگی میں فوجداری مقدمات کا تذکرہ ہی نہیں کیا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کل ہمارے پاس ایک کیس تھا انہوں نے ضمانت لی تھی۔ آپ درخواست دیتے ہیں تو ہم فوراً سماعت کے لیے مقرر کرتے ہیں، مگر تیاری تو کر کے آئیں، جس پر وکیل نے بتایا کہ بیان حلفی میں دونوں مقدمات کا بتا دیا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ سچ بولنے کے لیے تیار نہیں تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔

    بعد ازاں ایڈووکیٹ علی ظفر نے سپریم کورٹ میں کیسز کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ بہت سارے پی ٹی آئی امیدواروں کو اشتہاری قرار دیا گیا، جس کی وجہ سے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے تھے۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ صرف اشتہاری قرار دینے سے کاغذات نامزدگی مسترد نہیں ہو سکتے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بہت سارے کاغذات جو مسترد ہوئے تھے وہ اب بحال ہو جائیں گے۔

    ایڈووکیٹ علی ظفر نے کہا کہ الیکشن میں 3 قسم کے امیدوار ہیں۔ ایک انتخابی نشان والے پارٹی کے امیدوار ہیں۔ ایک قسم ایسے امیدواروں کی ہے جو بالکل آزاد ہیں۔ تیسری قسم وہ ہے جسے پارٹی نے ٹکٹ دیا۔

    ان کاکہناتھا کہ پارٹی کے نامزد کرنا امیدوار بے شک انتخابی نشان جو بھی ہو وہ پارٹی کا ہی رکن سمجھا جائے گا۔ عدالت نے فیصلہ نہیں کیا لیکن فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔ ہم بہت جلد انٹرا پارٹی الیکشن فیصلے کیخلاف نظرثانی دائر کریں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمجرم کو پھانسی کے بجائے نائٹروجن گیس کااستعمال کرکے سزائے موت
    Next Article اسرائیل کےغزہ پر حملوں کے بعد سے سلامتی کونسل فالج کا شکار ہے، ناروے
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.