تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس، اگر کوئی جج مجھے پسند نہیں تو کیا اسے بغیر انکوائری ایسے ہٹایا جاسکتا ہے،چیف جسٹس
    پاکستان

    شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس، اگر کوئی جج مجھے پسند نہیں تو کیا اسے بغیر انکوائری ایسے ہٹایا جاسکتا ہے،چیف جسٹس

    adminadminجنوری 23, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو تو تب بھی قانونی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اور قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی، جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا۔

    شوکت عزیز صدیقی کی اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے اور چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔شوکت عزیز صدیقی کے وکیل ایڈوکیٹ حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کی کارروائی غیر آئینی قرار دے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ایک سکے کو ہوا میں پھینک کر فیصلہ نہیں کر سکتے، اگر الزامات سچ ثابت نہیں ہوتے تو کیا ہوگا، اگر یہ طے نہیں ہوتا کہ الزامات سچے ہیں یا جھوٹے، اس کے بغیر ہم کس طرف جا سکتے ہیں لیکن ہم ان کیسز کے ذریعے مثال قائم کرنا چاہتے ہیں، الزامات پبلکی لگائے گئے اگر الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں انکوائری کے بعد تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا، ہم نے جن پر الزامات لگایا گیا انکو فریق بنانے کا کہا، سچ کی کھوج کون لگائے گا اب، ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، دوسری طرف سے یہ بات ہو سکتی ہے کہ الزامات کو پرکھا ہی نہیں گیا۔

    وکیل شوکت صدیقی نے بتایا کہ حل یہ ہے کہ کونسل کی کارروائی اور صدر مملکت کی جانب سے جج کو ہٹانے کی کارروائی کالعدم قرار دی جائے، سپریم کورٹ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کے لیے کمیشن تشکیل دے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کیسے کمیشن تشکیل دیں، کیا ہم معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیج دیں، دونوں میں سے کوئی سچ نہیں بتا رہا۔

    وکیل فیض حمید خواجہ حارث نے بتایا کہ صرف پبلک تقریر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ کی خود مختاری اور جوڈیشل کونسل کا سوال ہے، کونسل کی کارروائی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، کونسل کی کارروائی میں تقاضے پورے نہیں کیے گئے، سپریم کورٹ ان حالات میں کیسا فیصلہ دے سکتی ہے، اٹارنی جنرل سے بھی پوچھ لیں۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا ایک جج کو ایسی تقریر کرنی چاہیے تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم حقائق کو بھی نظرانداز نہیں کر سکتے، ججز بار ایسوسی ایشن میں جاکر تقاریر کرتے ہیں، سوال تقریر کا نہیں بلکہ تقریر میں کی گئی گفتگو اصل معاملہ ہے، آرٹیکل 19ججز کے لیے نہیں ہے، ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ تقاریر کی اجازت نہیں دے سکتا، امریکا میں تو ججز بحث و مباحثہ میں حصہ لیتے ہیں۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم خود انکوائری کروا سکتے ہیں، بلاوجہ الزام لگانا کسی حکومت کے ماتحت ادارے پر بھی اچھی بات نہیں، جس پر الزام لگایا گیا میں اسے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کے ماتحت ادارہ کہوں گا۔
    وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پوری انکوائری کالعدم قرار دیکر معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے، جس پر چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ کیا سپریم کورٹ ایسا کر سکتی ہے۔ وکیل شوکت عزیز صدیقی نے بتایا کہ کونسل نے مکمل انکوائری ہی نہیں کی۔

    وکیل فیض حمید نے کہا کہ معاملہ دوبارہ کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا کیونکہ شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج مدت بھی ختم ہو چکی، جو الزامات لگائے گئے وہ باتیں نہ کونسل کے جوابات میں کہی گئیں نہ ہی تقریر میں آئیں، شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا اور تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تقریر کرکے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی اور متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں۔ تقریر کو پبلسٹی نہیں بلکہ نشاندہی کرنے والے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، اگر ایک ادارے میں کرپشن ہو تو کسی جج کو کیا کرنا چاہیے۔

    وکیل فیض حمید نے بتایا کہ اسے اپنے چیف جسٹس کو بتانا چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کسی چیف جسٹس کی بات تسلیم کرنے اور کسی جج کی بات تسلیم نہ کرنے کا کوئی معیار تو ہونا چاہیے، قوم اب کافی کچھ برداشت کر چکی ہے، ہماری تشویش ادارے کی ساکھ سے متعلق ہے، قوم کو سچ کا علم ہونا چاہیے، کیا آپ نہیں چاہتے سچ سامنے آنا چاہیے، ہم کارروائی کو کیسے آگے بڑھائیں۔ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس لے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جوڈیشل کونسل نے تو بغیر کارروائی کیے جج کو ہٹا دیا، اگر کوئی جج مجھے پسند نہیں تو کیا اسے بغیر انکوائری ایسے ہٹایا جاسکتا ہے، اگر کسی کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو تو تب بھی قانونی طریقہ کار اپنایا جاتا ہے اور قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی، جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا۔

    اٹارنی جنرل نے دلائل میں کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے، عافیہ شہر بانوں کیس میں کہا گیا جب جج کو ہٹایا جائے یا استعفیٰ دیدیا جائے تو کارروائی نہیں ہو سکتی، ہم نے جج کو ہٹانے یا استعفا دینے پر کارروائی نہ کرنے کی پابندی کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی ہے، سپریم کورٹ عافیہ شہر بانوں کیس پر نظرثانی کرے، میری استدعا ہے کہ اس کیس کو بھی عافیہ شہر بانوں کیس کے تناظر میں دیگر کیسز کیساتھ منسلک کیا جائے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
    Next Article نااہلی کیس ، قاسم سوری آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.