تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » اظہار رائے پہچانا جاتا تو ملک دولخت نہ ہوتا، نہ لیڈر پھانسی لگتے،جسٹس اطہر من اللہ
    پاکستان

    اظہار رائے پہچانا جاتا تو ملک دولخت نہ ہوتا، نہ لیڈر پھانسی لگتے،جسٹس اطہر من اللہ

    adminadminجنوری 20, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد:سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرے گا، عدلیہ کو گھبرانا نہیں چاہیے، نہ خائف ہونا چاہیے۔ پاکستان کی آدھی تاریخ ڈکٹیٹر شپ میں گزری، ڈکٹیٹر شپ میں آزادی اظہار رائے ممکن ہی نہیں۔ اظہار رائے پہچانا جاتا تو ملک دولخت نہ ہوتا، نہ لیڈر پھانسی لگتے

    سپریم کورٹ میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اظہار رائے کے لیے صحافیوں کا کلیدی کردار رہا، کورٹ رپورٹرز سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جج بنا تو پہلا کیس ضمانت کا آیا، بحیثیت جج ہم اپنی کوئی چیز چھپا نہیں سکتے، جج کو آزاد ہونا چاہیے، جج پر جتنی تنقید ہو وہ اثر نہ لے، کوئی جج تنقید کا اثر لے گا تو وہ حلف کی خلاف ورزی کرے گا، عدلیہ کو گھبرانا نہیں چاہیے، نہ خائف ہونا چاہیے۔

    جسٹس اطہر من ا نے کہا کہ سوشل میڈیا کا اثر ججز پر نہیں ہونا چاہیے، بحیثیت جج ہم پبلک پراپرٹی ہیں،وقت کے ساتھ سچائی خود سامنے آتی ہے، ہمیں اپنے آپ سے سوال پوچھنا چاہیے کہ کہاں جا رہے ہیں، ہم مرضی کے فیصلے، مرضی کی گفتگو چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اظہار رائے بہت بڑی چیز ہے، اسے دبانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، ریاستیں اظہار رائے کو قابو نہیں کرسکتیں، 1971 میں مغربی پاکستان کے لوگوں کو مختلف تصویر دکھائی گئی، 75 سال تک سب کو پتہ تھا سچ کیا ہے لیکن اسے دبایا گیا، ہم سچ کو دباتے دباتے کہاں پہنچ گئے۔

    انہوں نے کہا کہ عدلیہ پر تنقید دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ تنقید کہ جب الزام لگایا جاتا ہے کہ کوئی دانستہ فیصلے ہو رہے ہیں، ایک وہ تنقید ہے جسے میں پسند نہیں کرتا کہ ریلیف کیوں ملا، تنقید ہر کوئی کرے لیکن عدلیہ پر اعتماد بھی کرے۔

    جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہمیں اپنی تاریخ سے سیکھنا ہوگا، اظہار رائے پہچانا جاتا تو ملک دولخت نہ ہوتا، نہ لیڈر پھانسی لگتے، حل صرف آئین پر عمل میں ہی ہے، آئین پر عمل کرکے ہم عظیم قوم بن سکتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمریم اورنگزیب سمیت دیگر کی بریت کی درخواستوں پر دلائل مکمل، فیصلہ محفوظ
    Next Article ماہرنجوم کی اداکارہ یمنیٰ زیدی کی شادی سے متعلق اہم پیش گوئی
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.