تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » کسی لاڈلے کو لانے کے لیے مجھے سزا دینا ضروری تھا تو عوام کا کیا قصور تھا،نواز شریف
    پاکستان

    کسی لاڈلے کو لانے کے لیے مجھے سزا دینا ضروری تھا تو عوام کا کیا قصور تھا،نواز شریف

    adminadminدسمبر 14, 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ کسی لاڈلے کو لانے کے لیے مجھے سزا دینا ضروری تھا تو عوام کا کیا قصور تھا، پاکستان کو کیوں معاشی تباہی میں دھکیل دیا گیا۔میرے خلاف شرمناک کھیل کے سارے چہرے بے نقاب ہو چکے ہیں، ایسی ایسی گواہیاں سامنے آئیں جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔

    قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اللہ نے مجھے جھوٹے، بے بنیاد مقدمے میں سرخرو کیا، پورے ملک سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں، عوام نے جھوٹے پروپیگنڈے کا یقین نہیں کیا، آپ کی دعاؤں نے مجھے بہت حوصلہ دیا ہے، آپ سب بھی مبارکباد کے مستحق ہیں۔

    نواز شریف نے کہا کہ میری جماعت کا ہر کارکن بھی مبارکباد کا مستحق ہے، میرے خلاف منظم سازش کا آغاز دھرنے سے شروع ہوا تھا، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر میری چھٹی اور عمر بھی کے لیے نااہل بھی کر دیا گیا، اچھی طرح یاد ہو گا جے آئی ٹی کے لیے واٹس ایپ پر ہیرے چنے گئے، مجھے سسلین مافیا، گاڈ فادر کی گالیاں دی گئیں۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کس طرح جسٹس کھوسہ نے درخواست گزار کو کہا ہمارے پاس درخواست لے کر آؤ، مطلوبہ فیصلے حاصل کرنے کے لیے سینئر ججز کے گھروں میں جا کر دھمکیاں دی گئیں، یہ ساری باتیں ریکارڈ پر آچکی ہیں۔

    نواز شریف نے کہا کہ آج بے گناہ قرار دیئے جانے پر پیچھے دیکھتا ہوں تو مشکلات کا لمبا سلسلہ نظر آتا ہے، بیٹی کے ساتھ سیکڑوں پیشیاں بھگتیں، میرے یہ زخم ہر روز تازہ ہوتے ہیں، اپنے والد، والدہ کا تابوت قبر میں نہیں اتار سکا، زندگی کے ہر لمحے سہارا دینے والی اہلیہ کے ساتھ آخری لمحات نہ گزار سکا، 6 سال بعد آخر میری بےگناہی ثابت ہو گئی، یہ کھلی ناانصافی کا ازالہ ہے جس کا مجھے نشانہ بنایا گیا۔

    قائد مسلم لیگ ن نے کہا کہ نہ خود کو کئی سال پیچھے لا سکتا ہوں نہ اپنے پیاروں کو واپس لا سکتا ہوں، جھوٹ، فریب، سازشوں کی قلعی کھل گئی اور سچ سامنے آگیا، 6 سال سوچتا رہا مجھ سے دشمنی کرنے والوں نے عوام کو کیوں سزا دی، کسی لاڈلے کو لانے کے لیے مجھے سزا دینا ضروری تھا تو عوام کا کیا قصور تھا، پاکستان کو کیوں معاشی تباہی میں دھکیل دیا گیا۔

    نوازشریف کا کہنا تھا کہ میرے دور میں پاکستان ترقی کر رہا تھا، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہہ دیا تھا، پاکستان کو کیوں بھکاری بنا دیا گیا، ہمارے دور میں لوڈشیڈنگ کے اندھیرے ختم ہو گئے تھے، آج پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں رُک گئی ہے، ہم چین سے سرمایہ کاری لے کر آئے تھے، پاکستان سے ہم نے دہشت گردی کو کچل دیا تھا پھر گڑھ کیوں بنا دیا گیا، روپے کی قدر کیوں مٹی میں ملا دی گئی، خطے میں ہماری کرنسی سب سے مضبوط تھی۔

    انہوں نے کہا کہ آج میرے دل و دماغ میں یہ سوال ہے مجھ سے بھی زیادہ سنگین سزا عوام کو دی گئی، یہ پتا لگنا چاہئے 4 فیصد کی مہنگائی کو کیوں 40 فیصد تک پہنچا دیا گیا، میرے دور میں 4 سے 5 روپے تک روٹی مل رہی تھی، پوچھنا چاہتا ہوں کس نے روٹی 25 روپے تک پہنچا دی، مجھے تو سزا دینا تھی دیدی لیکن آٹا، سبزی، ادویات کس نے چھین لیں۔

    ان نے کہا کہ مجھے تو جیل میں ڈال دیا لیکن عوام کو سزا کیوں دی گئی؟ اصل سوال یہ ہے غریبوں کے چولہے کیوں بجھا دیئے گئے؟ بچوں کی تعلیم کیوں چھین لی گئی؟ اللہ کا شکر ہے میرے سارے مقدمات جعلی، فراڈ نکلے، عدالت نے مجھے ہر الزام میں بری کر دیا، مجھے اس وقت اصل خوشی ہوگی جب عوام بھی بری ہوں گے، اصل خوشی تب ہوگی جب عوام کو بجلی، گیس کے بھاری بلوں سے نجات ملے گی۔

    سابق وزیر اعظم نے کہا کہ خدمت کرتا ہوا پاکستان واپس ملے گا تب مجھے خوشی ہوگی، آپ جانتے ہیں کوئی سبزباغ نہیں دکھاتا جو کہتا ہوں کر کے دکھاتا ہوں، 1990ء اور 2013ء میں اللہ نے میرا ہاتھ تھاما، جب بھی مجھے اقتدار ملا کئی گنا بہتر پاکستان چھوڑ کر گیا۔

    نواز شریف نے کہا کہ سزاؤں سے نجات کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنا پڑا، آپ نے کسی عدالت میں نہیں جانا، آپ خود جج ہیں، مجھے معلوم ہے آپ انشااللہ 8 فروری کو اپنا فیصلہ ضرور سنائیں گے، مجھے یقین ہے آپ ایک خوشحال پاکستان کے لیے اپنا فیصلہ سنائیں گے، مجھے یقین ہے آپ اپنا مقدر بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleالیکشن سے پہلے رونے دھونے سے حقائق تبدیل نہیں ہوں گے، محنت کریں، حسد نہیں،عظمیٰ بخاری
    Next Article سعودی عرب کے شہزادے بندر بن محمد بن سعود انتقال کر گئے
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.