تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » آئین میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں،56ترامیم تجویز
    پاکستان

    آئین میں کی جانے والی مجوزہ ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں،56ترامیم تجویز

    adminadminستمبر 16, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: حکومت کی جانب سے آئین میں کی جانے والی 56 ترامیم کی تفصیلات سامنے آگئیں، جس کے مطابق چیف جسٹس کی تقرری تین سال جبکہ ججز کی ریٹائرمنٹ مدت 68 سال ہوگی اور پارٹی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالنے والے رکن کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کا ورکنگ پیپر منظر عام پر آگیا، جس میں مجموعی طور پرآئین میں56ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔

    تجویز کے مطابق سپریم کورٹ کے متوازی وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا، آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر 3سال جبکہ ریٹائرمنٹ کی مدت 68سال ہوگی، پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالنے والے رکن کا ووٹ شمار کرنے کے علاوہ ، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر کا اختیار قومی اسمبلی کی 8رکنی کمیٹی کے سفارش پر وزیر اعظم کو دینے کی تجویز شامل ہے۔

    مجوزہ ورکنگ پیپر میں مجموعی طور پر56ترامیم تجویز کی گئیں، مجوزہ آئینی ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 48 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت صدر کو کابینہ یا وزیراعظم کی جانب سے بھجوائی جانے والی ایڈوائس پر کوئی عدالت ٹریبیونل یا اتھارٹی انکوائری نہیں کر سکے گی۔ جبکہ آئین کے آرٹیکل 63 میں مجوزہ ترمیم کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے خلاف ووٹ ڈالنے والے رکن کا ووٹ شمار کیا سکے گا۔

    ورکنگ پیپر کے مطابق آئینی ترامیم میں آئین کے آرٹیکل 78 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے اسکے علاوٴہ آئین کے آرٹیکل 175 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے جس کے تحت ہائی کورٹس اور شریعت کورٹ کے ججز کا تقرر کمیشن کرے گا۔ جبکہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔کمیشن میں آئینی عدالت کے دو سینیئر ترین جج، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور دو سینیئر ترین جج شامل ہوں گے۔

    ورکنگ پیپر میں شامل مجوزہ ترامیم کے مطابق کمیشن میں وزیر قانون، اٹارنی جنرل سینیئر ایڈوکیٹ اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے دو دو ممبران شامل ہوں گے ،وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے لیے کمیشن میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کے بجائے آئینی عدالت کے تین مزید ججوں کو شامل کیا جائے گا،سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کے لیے کمیشن کے سربراہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ہوں گے،سپریم کورٹ کے ججوں کے تقرر کے لیے کمیشن میں آئینی عدالت کے بجائے سپریم کورٹ کے پانچ جج شامل ہوں گے اورآئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارشات پر کیا جائے گا۔

    مجوزہ ورکنگ پیپر کے مطابق قومی اسمبلی کی کمیٹی آئینی عدالت کے تین سینیئر ترین ججوں میں سے ایک کو نامزد کرے گی،کمیٹی کے نامزد کردہ جج کا نام وزیراعظم صدر مملکت کو بھجوائیں گے،آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کا تقرر صدر مملکت وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے ،آئینی عدالت کے پہلی مرتبہ ججز کا تقرر صدر مملکت آئینی عدالت کے چیف جسٹس کی مشاورت سے کریں گے۔

    مجوزہ ترمیم آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے تقرر کے لیے قومی اسمبلی کی کمیٹی 8 رکنی ہوگی،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر بھی قومی اسمبلی کی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا،چیف جسٹس سپریم کورٹ کے لیے تین سینیئر ترین ججوں میں سے ایک کو کمیٹی نامزد کرے گی۔

    آئینی ترمیم کے مجوزہ ورکنگ پیپر کے مطابق کمیٹی کی جانب سے نام وزیراعظم کو بھجوایا جائے گا جن کی ایڈوائس پر صدر مملکت تقرر کریں گے ،وفاقی آئینی عدالت7ججز پر مشتمل ہوگی جس میں ایک ایک جج چاروں صوبوں جبکہ ایک وفاقی دارلحکومت سے ہوگا ، آئینی عدالت میں دو ایکسپرٹ ججزبھی شامل ہونگے ،چیف جسٹس آف پاکستان کے بجائے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کا لفظ استعمال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

    ورکنگ پیپر میں تجویز کیا گیا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے والے کو سپریم کورٹ یا آئینی عدالت کا جج مقرر نہیں کیا جا سکے گا ،آئینی عدالت کے ججز 68 سال کی عمر میں ریٹائر ہوں گے۔آئینی عدالت میں سپریم کورٹ سے آنے والے جج کی مدت تین سال ہوگی۔ سپریم کورٹ اور آئینی عدالت کے چیف جسٹسز کی مدت ملازمت تین سال ہوگی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleایشیائی ترقیاتی بینک اور پاکستان کے درمیان 720 ملین ڈالر کے 2 منصوبوں پر دستخط
    Next Article آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ اجلاس 25 ستمبر کو ہو گا پاکستان کے لئے قرض کی مںظوری متوقع
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.