تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » انتظامی اداروں کو سمجھنا ہوگا فیصلوں پر عملدرآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں، جسٹس منصور علی شاہ
    پاکستان

    انتظامی اداروں کو سمجھنا ہوگا فیصلوں پر عملدرآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں، جسٹس منصور علی شاہ

    adminadminاگست 10, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئرترین جج جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد آئینی تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات ذہن نشین کر لیں ہو نہیں سکتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا، انتظامی اداروں کو سمجھنا ہوگا ان کے پاس فیصلوں پر عمل درآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں ہے۔

    اسلام آباد میں اقلیتیوں کے حقوق سے متعلق عدالتی فیصلے کے دس سال مکمل ہونے پر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مجھے قائم قام چیف جسٹس پاکستان کہا گیا جو درست نہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں سینئر ترین جج ہوں قائم قائم چیف جسٹس نہیں، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ میرے دوست ہیں اور وہ چیف جسٹس پاکستان ہیں، میں سینیئر ترین جج ہی ٹھیک ہوں۔

    سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے کہا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ تندرست اور توانا ہیں، اللہ پاک ان کو صحت دے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارا آئین بہت خوب صورت ہے، افسوس کی بات ہے سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، اقلیتوں کے بنیادی حقوق سے متعلق سپریم کورٹ نے 2014 میں فیصلہ دیا، یہ ممکن نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو لیکن یہاں ایک مثال بنی ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہاں سب بیٹھے ہیں اور وہ سمجھتے ہوں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر ایسے عمل درآمد نہیں ہوتا تو ایسا نہیں ہے، سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بالکل عمل درآمد ہوتا اور یہی آئین کا ڈھانچہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہم نے کہا ہے کہ یہ بات ذہن نشین کر لیں ہو نہیں سکتا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہو، اگر ایسا سوچاجائے گا تو آئین کی خلاف ورزی ہوگی، انتظامی اداروں کو سمجھنا ہوگا ان کے پاس کوئی سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں ہے، یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ آئین کہتا ہے اور سپریم کورٹ یہ اختیار آئین سے لیتی ہے کسی اور دستاویز سے نہیں لیتی ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کسی کے پاس چوائس نہیں ہے کہ ٹھیک نہیں ہے غلط ہے، آئین کہتا ہے یہ فیصلہ ہے اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے، یا پھر سارا ڈھانچہ تبدل کرلیں کچھ اور بنالیں لیکن اس وقت جو آئین ہے اور آئین کا ڈھانچہ ہے اس کے مطابق یہی پوزیشن ہے، کسی فیصلے یا حکم کو مسترد یا تاخیر نہیں کی جاسکتی ہے ورنہ ساری قانونی نظام کو آپ بگاڑ کر رکھ دیں گے، آئین کا سارا توازن خراب کردیں گے اگر آپ اس طرف چل پڑے کہ فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہونی چاہیے تو ایسا ہو نہیں سکتا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ اختیارات کی تقسیم کے بھی خلاف ہے، اختیارات کی تقسیم کے تحت ہمیں بھی کام دیتا ہے، انتظامیہ کو ایک کام دیتا ہے اور مقننہ کو ایک کام دیتا ہے ورنہ آپ اس نظام کو بھی مکمل طور پر عدم توازن کا شکار بنائیں گے، یہ جمہوریت کا بنیادی جزو ہے اور اس کو ڈسٹرب نہیں ہونا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم نے کہا ہے کہ فیصلے پر عمل کرنا کوئی احسان یا بوجھ نہیں ہے بلکہ یہ آئینی ذمہ داری ہے اور ہمیں اس پر عمل کرنا ہے اور کسی قسم کی انتظامی اختیارات سے تجاوز نہیں ہونا چاہیے، کسی کے پاس چوائس نہیں ہے کہ وہ دوسری رائے قائم کرے کہ فیصلہ ٹھیک ہے یا نہیں، یہ حق سپریم کورٹ کا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ دے دیا تو اس پر عمل ہونا ہے اور یہی اس ملک کا نظام اور آئین ہے، کوئی نیا نظام بنانا چاہتے ہیں تو پہلے بنالیں پھر اس سلسلے میں بات کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ فیصلوں پر عمل درآمد کرنا آئینی تقاضا ہے ورنہ اس کے سنگین نتائج ہیں، یہ میں اس لیے واضح کر رہا ہوں کیونکہ یہاں ہم دیکھ رہے ہیں ایک فیصلہ بڑے عرصے چل رہا ہے اور اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے تو ایسا نہیں ہوگا، اس فیصلے کو بھی ہم دیکھیں گے۔

    سینئر ترین جج نے کہا کہ اپنے اختیارات کے مطابق فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرواؤں گا۔

    اقلیتوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق سے متعلق فیصلے پر ان شا اللہ عمل درآمد ہوگا، آئین میں اقلیتیوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک عدالتی فیصلہ مبارک علی کیس میں ہوا جس میں اقلیتیوں کو ملازمتوں میں کوٹے کو تحفظ دیا گیا، ہمیں ملک میں بین المذاہب مکالمے کی ضرورت ہے، سارے مذاہب کہتے ہیں کہ ایک دوسرے کا خیال کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تحمل کی طرف آنا پڑے گا، بطور شہری کہہ رہا ہوں تحمل سے معاشرے میں امن آئے گا، تحمل کے سبب نہ صرف معاشرہ ترقی کرے گا بلکہ اس سے نوکریوں میں اضافہ ہوگا، عدم تحمل کے سبب معاشرے میں بدامنی آتی ہے اور تقسیم پیدا ہوتی ہے، تشدد سے ملک معاشی بدحالی کا شکار ہوگا، ترقی رک جائے گی، چاہتا ہوں حکومت ان اقدامات پر عمل درآمد کرے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپی ٹی آئی کی کارکن صنم جاوید کے وارنٹ گرفتاری جاری
    Next Article سعودی عرب کا غزہ میں جنگ بندی کے لئے مذاکرات کی کوششوں کا خیرمقدم
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.