تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » صدارتی آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کی توہین ہے، آرڈیننس ہی لانا ہے تو ایوان بند کردیں،چیف جسٹس
    پاکستان

    صدارتی آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کی توہین ہے، آرڈیننس ہی لانا ہے تو ایوان بند کردیں،چیف جسٹس

    adminadminجون 20, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد:سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل کے معاملے پر لارجر بنچ کی تشکیل کا فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بجھوا دیا. عدالت نے قرار دیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے اس کیس کو صوبائیت سے نکل کر پورے ملک کی سطح پر دیکھنا ہے. عدالت نے صدارتی آرڈیننس کے اجراء پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ صدارتی آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کی توہین ہے، آرڈیننس ہی لانا ہے تو ایوان بند کردیں۔

    سپریم کورٹ میں 8 الیکشن ٹریبونلز کی تشکیل سے متعلق الیکشن کمیشن کی اپیل پر سماعت ہوئی۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹریبونلز کی تشکیل الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، 1977سے الیکشن کمیشن ہی الیکشن ٹربیونلز قائم کرتا آ رہا ہے، کیس میں آئین کے آرٹیکل 219(سی) کی تشریح کا معاملہ ہے، 14 فروری کو الیکشن کمیشن نے ٹریبونلز کی تشکیل کیلئے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے اور ججز کے ناموں کی فہرستیں مانگیں، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے 20 فروری کو 2 ججز کے نام دئیے گئے، دونوں ججز کو الیکشن ٹریبونلز کیلئے نوٹی فائی کردیا گیا، 26 اپریل کو مزید دو ججز کی بطور الیکشن ٹریبونلز تشکیل دے گئے، 4 ٹربیونلز کی تشکیل تک کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس ہائی کورٹ ایک دوسرے سے ملاقات نہیں کرسکتے، ایک میٹنگ میں بیٹھ کر سب طے کیا جاسکتا ہے، کیا پاکستان میں ہر چیز کو متنازعہ بنانا لازم ہے ؟ انتخابات کی تاریخ پر بھی صدر مملکت اور الیکشن کمیشن میں تنازعہ تھا، رجسٹرار ہائیکورٹ کی جانب سے خط کیوں لکھے جا رہے ہیں، چیف جسٹس اور الیکشن کمشنر بیٹھ جاتے تو تنازعہ کا کوئی حل نکل آتا، بیٹھ کر بات کرتے تو کسی نتیجے پر پہنچ جاتے،۔وکیل الیکشن کمیشن نے کہا ہم چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے بامعنی مشاورت کیلئے تیار ہیں

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن نے تمام ہائیکورٹس کو خطوط لکھے تنازعہ نہیں ہوا، لاہور ہائیکورٹ کے علاوہ کہیں تنازعہ نہیں ہوا، بلوچستان ہائیکورٹ میں تو ٹربیونلز کی کارروائی مکمل ہونے کو ہے، میں جب چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تھا ہم نے واضح کہہ دیا تھا ٹربیونلز کے قیام کا اختیار الیکشن کمیشن کا ہے۔

    دوران سماعت ہائیکورٹ کیلئے قابل احترام کہنے پر چیف جسٹس نے روکتے ہوئے کہا کہ قابل احترام ججز کیلئے کہا جاتا ہے، کیا انگلستان میں پارلیمان کو قابل احترام کہا جاتا ہے ؟ یہاں پارلیمنٹرین ایک دوسرے کو احترام نہیں دیتے ، ایک دوسرے کو گالم گلوچ ہوتی ہے، الیکشن کمیشن کو قابل احترام کیوں نہیں کہتے، کیا الیکشن کمیشن قابل احترام نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ آئین بالکل واضح ہے الیکشن ٹربیونلز کا اختیار الیکشن کمیشن کو حاصل ہے، آرٹیکل 219 سیکشن (سی ) نے بالکل واضح کر دیا ہے، ہم نے عدالتی فیصلوں پر نہیں آئین وقانون کے تحت حلف اٹھا رکھا ہے، سپریم کورٹ نے جب جب آئینی تشریح کی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ آئین آرڈیننس کے اجراء کی اجازت دیتا ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے ریٹائرڈ ججز پر مشتمل ٹریبونلز تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے اجراء پر اہم ریمارکس دیے کہ صدارتی آرڈیننس لانا پارلیمنٹ کی توہین ہے، اگر آرڈیننس ہی لانا ہے تو ہاو?س بند کر دیں، صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیلی کیسے کی جاسکتی ہے؟ ایک طرف پارلیمان نے قانون بنایا ہے، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کیسے لایا جا سکتا ہے، آرڈیننس لانے کی کیا وجہ تھی کیا؟ کوئی ایمرجنسی تھی، پارلیمان کے قانون کے بعد آرڈیننس کدھر سے آگیا، کوئی ایمرجنسی ہوتی تو سمجھ میں آتا ہے، یہ بھی تو الیکشن میں مداخلت ہے، الیکشن ایکٹ تو پارلیمان کی خواہش تھی، یہ آرڈیننس کس کی خواہش تھی، پارلیمان کی وقت زیادہ ہے یا کابینہ کی؟ اس آرڈیننس کے ذریعے ہائیکورٹ فیصلے کی نفی کی گئی۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے دیکھنا چاہتے ہیں پنجاب میں ٹربیونلز کے قیام کے معاملے پر ہی تنازعہ کیوں سامنے آیا. عدالت نے چاروں ہائی کورٹس اور الیکشن کمیشن کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ۔

    عدالت نے لارجر بنچ کی تشکیل کیلئے معاملہ تین رکنی کمیٹی کو بھجواتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleنامور اداکارہ مومنہ اقبال کے والد انتقال کر گئے
    Next Article کوئٹہ میں پکنک پوائنٹ سے 10 افراد شناختی کارڈ دیکھنے کے بعد اغوا
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.