تازہ ترین

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    Facebook Twitter Instagram
    Urdu News USAUrdu News USA
    • تازہ ترین
    • امریکہ
    • پاکستان
    • بین الاقوامی
    • سیاست
    • ثقافت
    • کھیل
    • فن و فنکار
    • سائنس
    • ٹکنالوجی
    Urdu News USAUrdu News USA
    You are at:Home » بشریٰ بی بی اور نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر چیئرمین پی ٹی اے دوبارہ طلب
    پاکستان

    بشریٰ بی بی اور نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر چیئرمین پی ٹی اے دوبارہ طلب

    adminadminمارچ 4, 2024کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی آڈیو لیکس کے خلاف درخواستوں پر سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے کو دوبارہ طلب کرلیا۔

    جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے وکیل عرفان قادر ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

    وکیل عرفان قادر نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ درخواستوں گزاروں کی استدعا کے مطابق یہ کیس غیرموٴثر ہو چکا، اسے نمٹا دیا جائے۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اس عدالت کے سامنے دو الگ درخواستیں ہیں اور وکیل سے دریافت کیا کہ چیئرمین پی ٹی اے کہاں ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ چیئرمین پی ٹی اے بارسلونا گئے ہوئے ہیں، تین چار دن میں واپس آ جائیں گے۔

    وکیل عرفان قادر نے مزید کہا کہ پی ٹی اے کی جانب سے قانونی رکاوٹ موجود ہے، اس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ پہلے تو پی ٹی اے نے کہا تھا کوئی لیگل مداخلت موجود نہیں ہے تو پھر تو پی ٹی اے کو پہلے جمع کرایا جواب واپس لے لینا چاہیے ؟ اس پر پی ٹی اے حکام کا کہنا تھا کہ ہم نے تو ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔

    بعد ازاں جسٹس بابر ستار نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی اے کو حکم دیا تھا کہ بیان حلفی جمع کرائیں، پہلے پی ٹی اے نے کچھ اور جواب دیا، اب کچھ اور کہہ رہے ہیں، کیا چیئرمین پی ٹی اے نے اپنا بیان حلفی جمع کروا دیا ہے؟ میں پی ٹی اے کا وکیل رہا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ قانونی مداخلت موجود ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ ٹیلی فون آپریٹرز عدالت میں آ کر جھوٹ بول دیں، پی ٹی اے نے جواب جمع کرایا کہ قانونی مداخلت موجود ہی نہیں، پی ٹی اے یہ پوزیشن لے کر کیوں خود کو شرمندہ کر رہا ہے؟ پی ٹی اے اب اپنے موقف سے پیچھے ہٹتا ہے تو ہٹ سکتا ہے۔

    انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اس معاملے کو کسی طرف تو لے جانا ہے، وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جس نے بھی پی ٹی اے کی جانب سے کہا وہ بھی میں دیکھ لوں گا، ہم نے کسی کو اجازت نہیں دی ہوئی ہے، اس کا ایک طریقہ کار موجود ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی اے کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کر لیا۔

    وکیل عرفان قادر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ان لائسنسز میں قانون کی یہ شقیں کیوں رکھی جاتی ہیں یہ دیکھنا ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ ہم بھی یہی سمجھنا چاہتے ہیں، وکیل نے بتایا کہ پی ٹی اے نے کسی کو ہدایات جاری نہیں کیں، سرکاری افسران آپ سے گھبرا جاتے ہیں میں عدالت کی معاونت کروں گا۔

    وکیل بشری بی بی سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ کتنا عجیب جواب ہے کہ سیکشن 19 میں یہ مان رہے ہیں یہ جرم ہے لیکن یہ پورا پورا دن ٹی وی چینلز پر اسے چلاتے رہے ہیں۔اس پر جسٹس بابر ستار کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھنا ہے مستقبل میں اس کو کیسے روکا جا سکتا ہے۔

    سردار لطیف کھوسہ نے بتایا کہ ہم سب کی رازداری خطرے میں ہے، یہ نہیں ہو سکتا میں موٴکل سے بات کر رہا ہوں اور اس کو کوئی اور بھی سن رہا ہو۔

    جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ کیا کوئی فریم ورک ہے کس قانون کے تحت انہوں نے ریاست کو سہولت فراہم کی ہوئی ہیں؟ لطیف کھوسہ نے بتایا کہ ہماری آڈیو جو لیک ہوئی وہ اصلی تھی۔

    اس موقع پر وکیل عرفان قادر نے کہا کہ ڈیجٹیل میڈیا اتنا بڑا سمندر ہے، مرحوم جج ارشد ملک کی آڈیو بھی لیک ہوئی تھی، پھر پانامہ کیس کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے۔

    جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ ریاست یہ پوزیشن لے رہی ہے کہ کوئی لیگل اتھارٹی نہیں، یہ آپ نے بتانا ہے کہ شہریوں کی پرائیویسی محفوظ ہے یا نہیں ہے؟ وکیل عرفان قادر نے جواب دیا کہ پالیسی، ایکٹ، لائسنس کچھ اور کہتے ہیں۔

    جج نے استفسار کیا کہ ریاست شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کیا کر رہی ہے؟ کیا ٹیلی کام آپریٹرز فون ٹیپنگ کی اجازت دے رہے ہیں؟

    بعد ازاں ڈی جی انٹیلی جنس بیورو فواد اسد اللہ بھی جسٹس بابر ستار کی عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے عدالت میں کہا کہ امریکا، برطانیہ اور جرمنی میں بھی آڈیو لیکس کے واقعات ہوتے ہیں، ایسے آلات موجود ہیں جن سے یہ سب کرنا آسانی سے ممکن ہے۔

    اس پر وکیل بشری بی بی نے کہا کہ 8 فروری کو تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا، جس پر جسٹس بابر ستار نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب 8 فروری کو درمیان میں لے کر مت آئیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ ہم سوموٹو کر رہے ہیں، 8 فروری سے متعلق ہمارے سامنے کچھ نہیں ہے۔

    ڈی جی آئی بی نے کہا ہم ریاست کے دشمنوں پر نظر رکھتے ہیں، تفصیلات چیمبر میں بتا سکتے ہیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 14 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دلائل طلب کر لیے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمریم نواز شریف کا لاہور میں پہلا سرکاری کینسر ہسپتال بنانے کا اعلان
    Next Article چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست دائر
    admin
    • Website

    Related Posts

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    نومبر 23, 2024

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    عام انتخابات 2024ء ری شیڈول کرنے کی درخواست سماعت کے مقرر

    نومبر 15, 2024

    Leave A Reply Cancel Reply

    تازہ ترین

    ایران کا33ملکوں کیلئے ویزافری انٹری کا اعلان

    دسمبر 17, 2023

    ریحام خان نے تیسری بار طلاق کی خبروں پرخاموشی توڑ دی

    نومبر 13, 2023

    سعودی دارالحکومت ریاض میں پہلا شراب خانہ کھول دیا گیا

    اپریل 25, 2024

    افغانستان میں بھارتی مسافر طیارہ گر کر تباہ

    جنوری 21, 2024
    جھلکیاں
    پاکستان نومبر 23, 2024

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا کے اضلاع میں کارروائیاں، 3 دہشت گرد ہلاک،3زخمی

    راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 3 دہشت گردوں کو…

    بشریٰ بی بی کا پی ٹی آئی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ

    نومبر 23, 2024

    دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے پاسورڈزکا پتا چل گیا

    نومبر 17, 2024
    فالو کریں
    • Facebook
    • Twitter
    Facebook Twitter Instagram YouTube LinkedIn TikTok
    • Privacy Policy
    • Terms of Service
    © 2026 اردو نیوز یو ایس اے۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.